سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم کہ آتے جاتے۔۔۔۔

شکوہ ظلمت شب سے توکہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔۔

کتنا آسان تیرے حجر میں مرنا جاناں
پھیر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے ۔۔۔۔

اس کی وہ جانے کہ اسے پاس وفا تھا کہ نا تھا۔۔۔۔۔
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے۔۔۔

Advertisement