کیا کیا ہے انہیں غیر سے سودائے مراسم

کیا کیا ہے انہیں غیر سے سودائے مراسم
ہم پر ذرا سا لطف بھی ارزاں نہ ہوا تھا

اس عہد شکن سے بھی تغافل کا گلہ ہے
تو بھی مرے بس میں دلٍ ناداں نہ ہوا تھا

Advertisement